جمعہ 20 فروری 2026 - 12:42
زنجیروں کے بغیر قیدی، کیا آپ واقعی آزاد ہیں؟

حوزہ/ تمام انسانی فلسفوں کے مقابلے میں قرآن مجید نے سماجی آزادی کا جو تصور پیش کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السّلام کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر مکمل طور پر آزاد کرنا تھا۔ سورہ آل عمران کی آیت ۶۴ اس منشور آزادی کا خلاصہ ہے: (کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا اپنا رب (آقا) نہ بنائے۔)

تحریر: مولانا صادق الوعد

حوزہ نیوز ایجنسی| کائنات میں ہر ذی روح، چاہے وہ زمین کا سینہ چیر کر نمو پانے والی ایک خاموش کونپل ہو یا افلاک کے اسرار میں غوطہ زن صاحب شعور انسان، اپنی بقا اور کمال کے لیے آزادی کا محتاج ہے۔ آزادی وہ روشنی ہے جس کے بغیر صلاحیتوں کی کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہیں؛ وہ وسعت ہے جس کے بغیر زندگی کی پرواز ممکن نہیں۔ ایک پودا اپنی جڑوں کی گہرائی کے لیے زمین کی آزادی کا طلبگار ہے، ایک پرندہ لامتناہی وسعتوں میں پرواز کی حریت کا متلاشی ہے، لیکن انسان، جو محض ایک حیاتیاتی وجود نہیں بلکہ شعور و ضمیر کا امین ہے، اسے صرف جسمانی نہیں، بلکہ روح، فکر اور ضمیر کی ایک ایسی گہری آزادی درکار ہے جس کے بغیر اس کی انسانیت ہی نامکمل ہے۔

مگر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان اکثر اسی آزادی کے حقیقی مفہوم کو سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا رہا ہے۔

آج کی مہذب دنیا بھی اسی فریب میں مبتلا ہے، جہاں آزادی کے ایک پہلو (سماجی آزادی) پر اتنا شور مچایا جاتا ہے کہ اس کا دوسرا، اور کہیں زیادہ اہم پہلو (روحانی آزادی)، نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ آج آزادی کا چراغ تو ہر سو روشن ہے، مگر اس کی لو میں وہ تپش نہیں، اور اس کے نور میں وہ ہدایت نہیں جو روح کو منور کر سکے۔ اس چراغ کی روشنی کو دو حالیہ واقعات نے اس قدر گہنا دیا ہے کہ قلم اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔

ایران کے حالیہ ہنگاموں میں ایک نوجوان کے ذہن میں یہ زہر گھولا گیا تھا کہ اس کی تخریب کاری اور جلاؤ گھیراؤ دراصل نواسۂ رسول، امام حسین علیہ السّلام کے اُس آفاقی فرمان پر عمل ہے کہ" اگر تمہارا کوئی دین نہیں، تو کم از کم آزاد رہو" کیا عجیب مغالطہ اور مکاری ہے در حقیقت یہ آزادی کے تصور کی تاریخ میں شاید سب سے المناک اور توہین آمیز تشریح ہے۔ کہاں امام حسین علیہ السّلام کا سکھایا ہوا یزیدی استبداد سے حریت کا درس اور کہاں اپنی نفسانی خواہشات، غصے اور ہیجان کی غلامی کے لیے اسی قول کو ڈھال بنانا!

یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جو شخص اپنے باطن کی قید (نفس پرستی اور شہوت) سے آزاد نہ ہو، وہ سماجی آزادی کے عظیم ترین نعرے کو بھی فساد، انتشار اور اجتماعی تباہی کا ہتھیار بنا سکتا ہے۔

دوسرا نمونہ، چند دن پہلے سوشل میڈیا پر کسی نے ایک پوسٹ میں یوں ایک خطرناک مغالطہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ کہ چونکہ اسلام میں آزادی حُریت ہے اور عربی زبان میں لبرل ازم کا ترجمہ بھی حریت پسندی ہے، لہٰذا اسلام اور لبرل ازم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

کیا عجیب مغالطہ گری ہے۔ یہ ایک ایسی سطحی اور فریب زدہ لسانی شعبدہ بازی ہے جو اُس گہری روحانی اور اخلاقی خلیج کو پاٹنے کی ناکام کوشش کرتی ہے جو انبیاء کے تصور حریت اور جدید لبرل ازم کے درمیان حائل ہے۔

انبیاء کی عطا کردہ حریت، انسان کو نفس اور غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر بندگی رب کی معراج عطا کرتی ہے؛ جبکہ جدید لبرل ازم، آزادی کا جھانسا دے کر اکثر انسان کو ہر اخلاقی و روحانی قید سے آزاد کر کے حیوانی جبلتوں اور لامحدود خواہشات کی پستی میں دھکیل دیتا ہے۔ ایک کا سفر غلامی سے بندگی تک ہے، دوسرے کا سفر آزادی سے بندگی نفس تک۔ یہی وہ دو زندہ، دھڑکتی اور کرب ناک مثالیں ہیں جو ہم سے تقاضا کرتی ہیں کہ ہم آزادی کے حقیقی اور اسلامی تصور کو اس کی تمام تر وسعتوں کے ساتھ سمجھیں۔

ان فکری مغالطوں کی تاریک جڑوں تک پہنچنے اور ان کا مدلل جواب دینے کے لیے، آئیے آزادی کے مفہوم کو اس کے دو بنیادی اور لازم و ملزوم ستونوں کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں:

آزادی کی پہلی اور سب سے نمایاں قسم سماجی آزادی ہے۔

یعنی معاشرے میں کوئی فرد یا گروہ کسی دوسرے فرد یا گروہ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔ یعنی کوئی کسی کو اپنا غلام نہ بنائے۔ کوئی کسی کا استحصال نہ کرے۔ کوئی کسی کی محنت اور صلاحیتوں کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہ کرے۔انسانی تاریخ اس ظلم کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جہاں طاقتوروں نے کمزوروں کو اپنا غلام بنایا، قوموں نے دوسری قوموں کے وسائل لوٹے، اور انسانوں کو جانوروں کی طرح بیچا اور خریدا گیا۔ یہ سماجی آزادی کا قتل عام تھا۔

قرآن کا انقلابی منشورِ آزادی

تمام انسانی فلسفوں کے مقابلے میں قرآن مجید نے سماجی آزادی کا جو تصور پیش کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السّلام کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر مکمل طور پر آزاد کرنا تھا۔ سورہ آل عمران کی آیت ۶۴ اس منشور آزادی کا خلاصہ ہے: (کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اللہ کے سوا اپنا رب (آقا) نہ بنائے۔)

یہ آیت صرف بندگی میں شرک کی نفی نہیں کر رہی، بلکہ سماجی اور سیاسی شرک کی جڑوں کو بھی کاٹ رہی ہے "کوئی کسی کو اپنا آقا نہ بنائے" کا جملہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا انقلابی نعرہ ہے۔ یہی حقیقی سماجی آزادی ہے، جہاں ہر انسان برابر ہے اور کسی کو دوسرے پر حاکمیت کا حق حاصل نہیں۔

یہاں آکر دنیاوی مکاتب فکر اور انبیاء کے مکتب میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔

دنیا کی تمام تحریکیں صرف سماجی آزادی پر آ کر رک جاتی ہیں۔ لیکن انبیاء کا مکتب ایک قدم آگے جاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ حقیقی آزادی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک انسان کو دوسری اور زیادہ خطرناک قید سے رہائی نہ ملے۔

دوسری قسم

روحانی آزادی (اپنے نفس کی غلامی سے نجات) ہے۔ یہ آزادی کا وہ پہلو ہے جسے جدید دنیا نے تقریبا فراموش کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے انسان کا اپنے ہی باطن کی قید سے آزاد ہونا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص پر باہر سے کوئی جبر نہیں ہوتا، وہ کسی کا غلام نہیں ہوتا، لیکن وہ اندر سے جکڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ کس چیز کا قیدی ہوتا ہے؟وہ اپنی حرص اور طمع کا اسیر ہوتا ہے۔ وہ اپنی شہوت اور ہوس کا بندہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے غصے اور انتقام کا غلام ہوتا ہے۔ وہ اپنی لامتناہی خواہشات کا قیدی ہوتا ہے۔

ایسا شخص بظاہر تو ایک آزاد شہری کہلاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اپنی نفسانی خواہشات کا بدترین غلام ہوتا ہے۔ اس کا نفس اسے جس طرف ہانکتا ہے، وہ بے چون و چرا اس طرف چل پڑتا ہے۔ دین کی زبان میں اس اندرونی غلامی سے نجات پانے کا نام تزکیہ نفس یا تقویٰ ہے۔ تقویٰ صرف چند مذہبی رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کو ان باطنی زنجیروں سے پاک کرنے کا عمل ہے۔لہذا متقی وہ شخص ہے جو اپنے نفس کی لگام اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے۔ وہ اپنے نفس کا حاکم ہوتا ہے، محکوم نہیں۔

مگر آج کا انسان ایک ایسے پرندے کی مانند ہے جو ایک پَر سے اُڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس نے سماجی آزادی کا ایک پَر تو پھیلا رکھا ہے، لیکن روحانی آزادی کا دوسرا پَر کاٹ کر پھینک دیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جب تک دنیا اسے آزاد سمجھتی ہے، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اندر سے اپنی خواہشات، حرص اور تکبر کا قیدی ہے۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ جو شخص خود اپنے نفس کا غلام ہو، وہ دوسروں کی آزادی کا حقیقی محافظ بن سکے؟ تاریخ اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ فرعون جب بنی اسرائیل کا استحصال کرتا تھا تو پوری ڈھٹائی اور بے باکی سے اعلان کرتا تھا: "وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ" (اور ان دونوں کی قوم تو ہماری غلام ہے)۔ اس کے ظلم اور مفاد میں کوئی پردہ نہیں تھا۔ اس کی تلوار بھی ننگی تھی اور اس کی نیت بھی عیاں تھی۔ اس کے برعکس، آج کا ظالم کہیں زیادہ عیار اور منافق ہے۔ اس نے ظلم کرنے کے ساتھ ساتھ اس ظلم کو چھپانے کی جادوگری بھی سیکھ لی ہے۔ وہ قدیم ظالم سے زیادہ حریص ہے، لیکن وہ اپنے ہر استحصالی قدم پر آزادی، انسانی حقوق اور جمہوریت کا ریشمی غلاف چڑھا دیتا ہے۔ وہ قوموں کے وسائل آج بھی لوٹتا ہے، انسانوں کو معاشی غلامی کی زنجیروں میں آج بھی جکڑتا ہے، لیکن اس کے ہاتھ میں تلوار نہیں، بلکہ خوبصورت نعروں کا ایک دل فریب پرچم ہوتا ہے۔ کام وہی ہے جو فرعون کرتا تھا، بس نام اور اسلوب بدل گیا ہے۔ اس منافقت کی وجہ بالکل واضح ہے۔ جدید انسان کے پاس تقویٰ کی وہ ڈھال نہیں جو اسے اپنے ہی نفس کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں رکھنے میں مدد دے۔ جب انسان اندر سے آزاد نہ ہو، جب وہ اپنی حیوانی خواہشات کا قیدی ہو، تو اس کا شعور اور اس کی عقل بھی اسی حیوانیت کی غلام بن جاتی ہے۔ پھر وہ دنیا کو دھوکہ دینے کے لیے خوبصورت ترین نظریات اور دلکش ترین نعرے ایجاد کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انبیاء کا پیغام روشنی بن کر ابھرتا ہے۔ حقیقی آزادی کا راستہ باہر کی دنیا سے نہیں، انسان کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے۔ اور اسی اندرونی انقلاب کی بھٹی کو ہر سال دہکانے، اسی روحانی آزادی کی عملی مشق کرانے کے لیے، پروردگار نے ہمیں رمضان المبارک کا تحفہ عطا کیا ہے۔ روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں، یہ اپنی ذات پر اختیار حاصل کرنے کا اعلان ہے۔ جب ایک انسان دن بھر حلال ترین نعمتوں کو بھی صرف اللہ کے حکم پر ترک کر دیتا ہے، تو وہ اپنے نفس کے سرکش گھوڑے کی لگام کھینچ کر اسے بتاتا ہے کہ سوار میں ہوں، تو نہیں۔ یہ بھوک اور پیاس دراصل نفس کی خدائی کے خلاف ایک شعوری بغاوت ہے۔

اور جب انسان اپنی اس اندرونی غلامی سے آزاد ہوتا ہے، تبھی اس کی روح اتنی پاکیزہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی تکلیف محسوس کر سکے۔ روزے کی بھوک اسے ان کروڑوں انسانوں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے جو ہر روز جبری بھوک اور استحصال کی غلامی میں جیتے ہیں۔ یہ احساس محض ایک لمحاتی ہمدردی نہیں، بلکہ سماجی انصاف کے قیام کے لیے ایک دائمی تحریک بن جاتا ہے۔

یوں رمضان کا روزہ بیک وقت انسان کے آزادی کے دونوں بازوؤں کو قوت بخشتا ہے: روحانی آزادی، تاکہ وہ نفس کا غلام نہ بنے؛ اور سماجی آزادی، تاکہ وہ معاشرے میں ظلم اور استحصال کے خاتمے کا ذریعہ بنے۔جب تک انسانیت اس حقیقت کو نہیں سمجھے گی، وہ آزادی کے نام پر غلامی کے نت نئے سنہرے پنجرے بناتی رہے گی، اور اس کا ہر دعویٰ ایک سراب اور ہر نعرہ ایک فریب ثابت ہوگا۔ حقیقی آزادی کا راستہ باہر کی دنیا سے نہیں، انسان کے اپنے اندر سے شروع ہوتا ہے، اور رمضان ہر سال ہمیں اسی اندرونی انقلاب کا پیغام دینے آتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha